حجامہ کرنے کا طریقہ

ads

حجامہ ایک قدیم طریقہ علاج اور سنت نبوی ﷺ بھی ہے. تقریباً ڈیڑھ ہزار سال قبل مسیح میں میڈیکل سائنس کی پہلی کتاب لکھی گئی، جو قدیم مصری زبان اور اشکال میں تحریر کی گئی تھی اور حیران کن طور پر اِس میں اُس دور کے مروجہ طریقہ علاج اور سرجریز کے علاوہ حجامہ کرنے کا طریقہ اور اس کے فوائد درج ہیں.

اس کتاب میں ایسی اشکال اور اُزاروں کی تصاویر موجود ہیں جن میں حجامہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے. کتاب میں اس دور کے طریقہ کی وضاحت کی گئی ہے، جس میں حجامہ کرنے کیلئے جسم کے مخصوص حصوں پر خراشیں یا کٹ لگا کر وہاں ایسا اُوزار رکھا جاتا تھا جس کی نوک میں سوراخ ہو. پھر سوراخ سے منہ لگا کر سانس کھینچا جاتا تھا اور آخر میں اسے شہد کے چھتے کے موم سے بند کر دیا جاتا تھا.

اسی طرح قدیم چینی تہذیب میں بھی حجامہ کا ذکر موجود ہے. یہ طریقہ کار ہزاروں سالوں سے مختلف ممالک جیسے امریکہ، جرمنی، فرانس، جنوبی کوریا، کینیڈا، چین، دوبئی، کویت اور سعودی عرب میں رائج ہے اور ان ممالک کے لوگ اس قدیم طریقہ علاج سے بھر پور فائدہ حاصل کر رہے ہیں. جدید میڈیکل سائنس بھی اب تیزی کے ساتھ حجامہ کی طرف متوجہ ہو رہی ہے.

جدید ٹیکنالوجیی، ریسریچ اور لیباٹریوں کی وجہ سے کیپنگ تھراپی کی افادیت اور اہمیت لوگوں کے سامنے آئی ہے جسکی وجہ سے وہ جدید علاج کروانے کی بجائے قدیم طریقہ علاج کو فوقیت دے رہے ہیں. جبکہ آج کل ہمارے ملک میں بھی اس کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور شہر شہر ایسے کلینک کھولے جا رہے ہیں جہاں پر حجامہ کروایا جا سکتا ہے.

حجامہ کیا ہے؟

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ حجامہ قدیم طریقہ علاج اور رسول اللہ ﷺ کی سنت بھی ہے. اس طریقہ علاج میں جسم سے گندا اور فاسد خون نکالا جاتا ہے، فاسد خون انسانی صحت پر برے اثرات مرتب کرتا ہے اور پچیدہ بیماریوں کا باعث بنتا ہے. حجامہ نہ صرف کم خرچ طریقہ علاج ہے بلکہ نہایت محفوظ اور فوری نتائج کا بھی حامل ہے. خاص طور پر ایسی بیماریاں جو مہنگے ترین علاج کروانے سے بھی ختم نہیں ہوتیں وہ اس طریقہ علاج سے کچھ ہی عرصہ میں ایسے ختم ہوتی ہیں جیسے کبھی تھیں ہی نہیں.

ویسے تو علاج معالجہ میں جتنا کچھ کہا جائے کم ہے لیکن اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے ” بہترین علاج جسے تم پسند کرتے ہو حجامہ کروانا ہے.“ (صیح بخاری 1735، 5371)

حجامہ مختلف پچیدہ اور جان لیوا امراض مثلاًَ بلڈ پریشر، ڈپریشن، پٹھوں ، کمر، ہڈیوں اور جوڑوں کے درد، ذیابطس (شوگر) یرقان (ہپاٹائٹس)، دمہ، مائیگرین (درد شقیقہ) قبص، بواسیر، فالج، مرگی، کینسر، موٹاپے، ہارٹ اٹیک، جلد امراض، ایکنی، گردے کی پتھری اور سوجن، مردانہ اور زنانہ پوشیدہ امراض، گھٹیا اورعرق نساء وغیرہ کے ساتھ ساتھ دیگر روحانی و جسمانی بیماریوں میں شفا ہے.

حجامہ کی اقسام


حجامہ تین طرح سے کروایا جا سکتا ہے.

✵ تر حجامہ (Wet Cupping):- اس طریقہ میں جسم کے کسی خاص حصہ پر کٹ (Incisions) لگا کر فاسد خون نکالا جاتا ہے. اگر خون میں فاسد مادے کی مقدار زیادہ ہو تو اس طریقہ کار کو اہمیت دی جاتی ہے، جبکہ یہ طریقہ حضورﷺ نے بھی پسند فرمایا تھا.

✵ خشک حجامہ (Dry Cupping):- اس طریقہ کار میں جسم پر صرف کپ لگائے جاتے ہیں. خون میں اگر فاسد مادے کی مقدار کم ہو تو اس طریقہ کار کو اختیار کرنا چاہیے.

✵ حجامہ مساج (Cupping Massage):- یہ طریقہ کار ایک خاص قسم کا مساج ہے اورخشک حجامہ کی طرح کا ہوتا ہے. اس طریقہ میں جسم میں اس مقام پر جہاں مساج کی ضرورت ہوتی ہے خاص قسم کا تیل لگا کر پھیلا دیا جاتا ہے اور پھر کپ لگا کر مساج کیا جاتا ہے. اس طریقہ میں اگر ہاتھوں سے مساج کیا جائے تو صرف ڈیڑھ انچ تک اس کا اثر پڑتا ہے جبکہ کپ لگانے سے اثر 3 سے 4 انچ گہرائی تک ہوتا ہے.

حجامہ کا طریقہ

حجامہ کرنے کیلیے جسم کے کسی بھی حصے عموماً کمر پر پچھنا (کپ) لگا کر (Partial Vacuum) یعنی خلاء پیدا کی جاتی ہے. اسکی وجہ سے جسم کے اس مخصوص حصہ پر مقامی ہیجانِ خون واقع ہوتا ہے. کچھ لمحوں بعد کپ ہٹا کر اس مقام پر بغیر کسی تکلیف کے کٹ لگا کر فاسد خون کا اخراج کرایا جاتا ہے. اس عمل کی وجہ سے جلد پر جو کھینچاؤ اور گرمی پیدا ہوتی ہے وہ جسمانی نظاموں کو فعال کرتی ہے جسکی وجہ سے مریض کو آرام ملتا ہے اور وہ شفایاب ہوتا ہے. اس طریقہ علاج کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ بغیر کسی درد، مضرات کے باآسانی عمل میں لایا جا سکتا ہے.

حجامہ طریقہ علاج کیلئے ماہرین نے انسانی جسم کے مخصوص پوائنٹس پر مبنی ایک نقشہ تیار کیا ہے، جس میں مخصوص بیماریوں کیلئے 143 سے زائد پوائنٹس کی نشاندہی کی گئی ہے. ان پوائنٹس کی اہم بات یہ ہے کہ کوئی بھی خاص پوائنٹ ایک سے زائد بیماریوں کے علاج کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اور ایک ہی بیماری کیلئے ایک سے زائد پوائنٹس ہوتے ہیں.

ریڑھ کی ہڈی کے پہلے مہرے پر 1 نمبر پوائنٹ واقع ہے اور ریڑھ کی ہڈی کے چوتھے مہرے پر 55 نمبر پوائنٹ موجود ہے. ان دو پوائنٹس پر نبی کریم ﷺ نے کئی مرتبہ حجامہ لگوایا تھا اور انہی دو جگہوں پر حجامہ لگوانے کو فائدہ مند اور پسندیدہ قرار دیا تھا.

مندرجہ بالا پوائنٹس پر کی جانے والی تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ پوائنٹس سرد درد، درد شقیقہ، آنکھوں کے ورم اور بینائی، جلدی امراض، پرانے زخموں، شوگر، یرقان، گردے کے درد اور پتھری، کمر اور پٹھوں کے درد، ڈپریشن، بلڈ پریشر، دل کے امراض کے باعث پیدا ہونے والی بیماریوں اور پچیدگیوں میں بے حد فائدہ مند ہیں.

حجامہ کے فوائد

تقریباً %70 بیماریاں خون کی عدم فراہمی، اس میں خلل یا فاضل مادوں کی موجودگی کی وجہ لاحق ہوتی ہیں. حجامہ کرانے سے جلد کو ہی نہیں بلکہ عضلات کو بھی حرکت ملتی ہے جس سے جلد اور خون میں موجود زہریلے مادوں کا اخراج ہوتا ہے اور جسم میں دروان خون میں بھی بہتری آتی ہے.

اس طریقہ علاج سے ان جسمانی عضاء تک بھی صاف خون کی رسائی ممکن ہوتی ہے جہاں خون کی کمی کی وجہ سے مہلک امراض پیدا ہوتے ہیں. یہ طریقہ علاج ہارمونز کے نظام کو درست کرتا ہے، قوت مدافیت کو تقویت دیتا ہے جس سے جسم میں بیماریوں سے لڑنے کی طاقت میں اضافہ ہوتا ہے.

حجامہ کب کروانا چاہیے؟


حجامہ لگوانے کیلئے صبح کا وقت بہترین ہے. خالی پیٹ یا کھانے کے کم از کم 2 گھنٹے بعد حجامہ کروانا چاہیے. حاملہ عورت، بلڈ پریشر کے مریض جن کا بلڈ پریشر بہت زیادہ ہو اور شوگر کے مریض جن کا شوگر لیول 400 کے اوپر ہو، پیٹ میں درد یا تیز بخار ہو تو حجامہ نہیں کروانا چاہیے.

اس طریقہ کار سے جسم پر بننے والے زخم تقریباً 4 سے 5 گھنٹوں میں سوکھ جاتے ہیں، یہاں تک بھی دیکھا گیا ہے کہ حجامہ اگر شوگر کے مریض کو کیا جائے تو انہیں بھی زخم نہیں ہوتا. حجامہ کروانے کے بعد شام میں آپ نہا سکتے ہیں اور اس کی وجہ سے جسم پر جو نشانات پڑتے ہیں وہ 4 سے 5 دنوں میں مٹ جاتے ہیں. مرد و خواتین دونوں اس طریقہ علاج کو مختلف بیماریوں سے شفا کیلئے استعمال کر سکتے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں