حمل کیلنڈر

ads

عام طور پر زیادہ ترعورتیں حمل کے دوران کسی قسم کی پریشانی محسوس نہیں کرتی اور باآسانی صحت مند بچے کو جنم دیتی ہیں. پہلے 3 ماہ کے دوران حاملہ عورت کی طبیت خراب اور قے آسکتی ہیں. اس دروان عموماً حاملہ عورت بے چین، سست اور تھکی سی رہتی ہے. اسکے علاوہ مختلف جسمانی تبدیلیاں بھی رونما ہوتی ہیں مثلاً چھاتیوں میں زخم یا سوجن اور چھاتیوں کی چوچیوں کی رنگت زیادہ گہری ہو جانا وغیرہ. اورعموماً حاملہ عورتوں کے لیے چوتھے ماہ سے لے کر بچے کی پیدائش تک کا عرصہ بہت ہی اچھا ہوتا ہے اور اس دروان انہیں کوئی خاص پریشانی لاحق نہیں ہوتی.

ماں بننا ہر شادی شدہ عورت کی فطری خواہش ہوتی ہے، اور حمل ٹھہرنے کے بعد بچے کی پیدائش کی تاریخ جانا ہر عورت کی تمنا ہوتی ہے. عورتوں میں حمل کا دورانیہ تقریباً 9 ماہ یا 40 ہفتے ہوتا ہے، اور یہ دروانیہ گزشتہ ماہواری کے پہلے دن سے، یعنی تقریباً دو ہفتے پہلے سے شمار کیا جاتا ہے اور بچہ عورت کی آخری ماہواری کے 40 ہفتے بعد پیدا ہوتا ہے.

اگر آپ بھی امید سے ہیں اور بچے کی متوقع یوم پیدائش معلوم کرنا چاہتی ہیں تو مندرجہ ذیل میں حمل کیلنڈر اور حمل کیلکولیٹر کی مدد سے بچے کی پیدائش کی متوقع تاریخ نکالنے کا طریقہ بتایا گیا ہے. بتائے گئے طریقوں سے آپ بلکل درست تاریخ پیدائش تو معلوم نہیں کر سکتیں، کیونکہ بچے کی پیدائش کی درست تاریخ اللہ تعالیٰ کی طرف سے متعین کردہ ہوتی ہے لیکن آپ بچے کی پیدائش کا اندازہ لگا سکتی ہیں.

اس طریقہ کار کو انگریزی زبان میں ای.ڈی.ڈی (Expected Date of Delivery) کہا جاتا ہے. بچہ اس طریقہ سے حاصل شدہ تاریخ سے 1 ہفتہ پہلے یا بعد میں بھی پیدا ہو سکتا ہے.

حمل کیلنڈر

حمل کا عرصہ حمل ٹھہرنے کے بعد آخری ماہواری شروع ہونے کے بعد سے تقریباً 40 ہفتوں پر مشتمل ہوتا ہے. آپ بچے کی پیدائش (EDD) کی متوقع تاریخ معلوم کرنے کیلئے ایک حمل کیلنڈر بھی بنا سکتی ہیں. اس حمل کیلنڈر کے ذریعے آپ معلوم کر سکتی ہیں کہ آپ کا حمل کونسے مرحلے میں ہے اور مرحلے میں آپ کو کن مسائل کا سامنا کرنا پر سکتا ہے اور مسائل سے نبرآزما ہونے کیلئے آپ کو کن اقدامات کی ضرورت ہوگی. مثال کے طور پر حمل گرنے کے خطرات عموماً پہلے 3 ماہ میں بہت زیادہ ہونے ہیں، اس لیے ان مہینوں میں احتیاط بہت ضروری ہوتی ہے.

حمل کیلنڈر بنانے کا طریقہ


مندرجہ ذیل میں حمل کیلنڈر بنانے کا طریقہ بتایا گیا ہے جس سے آپ حمل کیلنڈر بنا کر بچے کی ممکنہ یوم پیدائش کا اندازہ لگا سکتی ہیں.

✤ حمل کیلنڈر بنانے کے لیے آپ کو تاریخ کے علاوہ دن بھی نوٹ کرنا ہو گا تاکہ آپ آسانی کے ساتھ مہینے گن سکیں. مثلاً آپ کی آخری ماہواری شروع ہونے کی تاریغ 5 جولائی ہے اور دن اتوار بنتا ہے تو اگلے اتوار کے دن ایک ہفتہ ہو جائے گا. اسی طرح 4 اتوار یعنی 4 ہفتے ملا کر ایک ماہ بنتا ہے.

✤ مزید یہ کہ آپ کو یہ نہیں دیکھنا کہ آپ کی ماہواری کی تاریخ 5 جولائی بروز اتوار ہے تو اگلے مہینے کی 5 تاریخ کو 1 ماہ ہو گا، کیونکہ سال کے ہر مہینے کے دن مختلف ہوتے ہیں (جیسے اگست 31 یوم کا ہے تو ستمبر 30 دنوں کا). عورتوں میں نارمل حیض (Menses Cycle) کا دور 28 دنوں پر مشتمل ہوتا ہے.

حمل کیلنڈر مندرجہ ذیل طریقہ سے بنائیں.

حمل کیلنڈر

مہینہ

4 ہفتے = 28 دن = 1ماہ

ماہواری شروع ہونے کی تاریخ

پہلا ماہ (0 – 4 ہفتے)
دوسرا ماہ (5 – 8 ہفتے)
تیسرا ماہ (9 – 12 ہفتے)
چوتھا ماہ (15 – 16 ہفتے)
پانچواں ماہ (17 – 20 ہفتے)
چھٹا ماہ (21 – 24 ہفتے)
ساتواں ماہ (25 – 28 ہفتے)
آٹھواں ماہ (29 – 32 ہفتے)
نواں ماہ (33 – 36 ہفتے)
دسواں ماہ (37 – 40 ہفتے)

حمل کیلنڈر میں آخری حل شدہ تاریخ ہی بچے کی متوقع تاریخ پیدائش ہو گی، اور اس میں ایک ہفتے کی کمی پیشی ہو سکتی ہے.

حمل کیلکولیٹر

حمل کیلنڈرکے علاوہ آپ حمل کیلکولیٹر سے بھی بچے کی پیدائش کی متوقع تاریخ معلوم کر سکتی ہیں. حمل کا اوسطاً دورانیہ آخری حیض کے بعد سے 280 دن تک کا ہوتا ہے. اور اگر آپ حساب لگائیں تو یہ دورانیہ 9 ماہ کی نسبت 10 ماہ کے زیادہ قریب بنتا ہے. مندرجہ ذیل میں بچے کی یوم پیدائش معلوم کرنے کا طریقہ بتایا جا رہا ہے، لیکن یاد رکھیں یہ رہنمائی ہے ضمانت نہیں.

زیادہ تر بچے آخری ہیض کے بعد 37 سے لے کر 42 ہفتوں کے درمیان پیدا ہوتے ہیں. بچے کی پیدائش نکالنے کا عام طریقہ نیچے بیان کیا گیا ہے.

✤ اپنے آخری ہیض کے پہلے دن کی تاریخ لکھیں (جیسے 5 جولائی).
✤ اس تاریخ میں 7 دن جمع کریں (7 دن جمع کرنے کے بعد تاریخ 12 جولائی ہوگی).
✤ اب تین مہینے پیچھے گنیں (12 جون، 12 مئی اور 12 اپریل). اس اندازے کے مطابق آپ کے بچے کی پیدائش کی متوقع تاریخ 14 اپریل ہوگی.

بیٹا پیدا ہو گا یا بیٹی؟


آپ نے اکثر اخبارات میں پڑھا ہو گا اور اشتہارات بھی دیکھے ہونگے جن میں مختلف پیروں اور ڈاکٹروں نے یہ دعویٰ کیا ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو بیٹا دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا حمل کے دروان بچے کی جنس تبدیل کر سکتے ہیں. اور ہمارے ذہنوں میں اکثر یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ایسا ممکن ہے؟ اس کا جواب یقیناً “نہیں” میں ہے کیونکہ اس دنیا میں معجزے اگرچہ انبیاء اور پیغمروں کا وصف رہے ہیں لیکن کسی نبی یا پیغمر کو بھی یہ معجزہ کبھی حاصل نہیں رہا کہ وہ کسی کو بیٹا دے سکیں. جب انبیاء اور پیغمروں کا یہ معاملہ ہے تو کسی پیر یا ڈاکٹر کا ایسا دعویٰ کیونکر تسلیم کیا جا سکتا ہے.

بحثیت مسلمان ہمیں اس بات پر کامل یقین ہونا چاہیے کہ بیٹا یا بیٹی دینے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور اس بات کا اظہار اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں یوں کیا ہے.

ترجمعہ: ”آسمانوں اور زمین کی بادشاہی صرف اللہ ہی کی ہے. وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے. جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے. یا ملا کر بیٹے اور بیٹیاں عطا کر دیتا ہے. اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے. یقیناً وہ سب کچھ جاننے والا، ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے.“ (الشوریٰ 42: 49، 50)

بچے کی جنس معلوم کرنے کا طریقہ


جدید سائنسی طریقہ کار سے بچے کی جنس معلوم کی جاسکتی ہے. اس سائنسی طریقہ کار کو الٹرا ساؤنڈ امیجنگ یا سکینیگ اور سونوگرافی بھی کہتے ہیں. یہ طریقہ کار بچے کی تصویر فراہم کرتا ہے. کیونکہ ماں کے پیٹ میں بچے کی جنس اس کی پوزیشن کی وجہ سے چودھویں ہفتے میں ہی معلوم ہو جاتی ہے. لیکن بہتر یہ سے اس طریقہ کار سے بچے کی جنس معلوم کرنے کیلئے بیسویں ہفتے کا انتظار کیا جائے کیونکہ اس وقت تک بچہ سائز میں چودھویں ہفتے کی نسبت زیادہ بڑا ہو چکا ہوتا ہے اور اس کی جنس معلوم کرنے میں کامیابی کے امکان بھی زیادہ ہوتا ہے.

جدید سائنسی تحقیق اس بات کی بھی تصدیق کرتی ہے کہ بچے کی جنس کا تعین مرد کا جرثومہ کرتا ہے. مرد کا جرثومہ X اور Y کروموسومز پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ عورت کا بیضہ X اور X پر. جب مرد کا X کروموسوم عورت کے X کروموسوم سے ملتا ہے تو بیٹی کی پیدائش ہوتی ہے اور جب مرد کا Y کروموسوم عورت کے X کروموسوم سے ملتا ہے تو بیٹا پیدا ہوتا ہے.

اس طرح سائنس سے یہ بات ثابت ہو چکی کہ ہمارے معاشرے میں جو تاثر عام ہے کہ عورت کی وجہ سے بیٹیاں پیدا ہوتی ہیں، یہ سب جھوٹ ہے. کیونکہ بیٹی یا بیٹے کا تعین مرد کے جرثومے سے ہوتا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں