حمل کی ابتدائی علامات

ads

جنسی ملاپ کے دروان منی کے جرثومے اور انڈے کے ملاپ سے حمل ٹھرجاتا ہے. یہ صورت حال عام طور پر اس وقت واقع ہوتی ہے جب میاں بیوی بغیر کسی مانع حمل کے جنسی ملاپ کرتے ہیں۔ خواتین میں حمل کا آغاز مہینے کے ایک خاص وقت پر ہوتا ہے یعنی اگر پیریڈز کے بعد مباثرت کی جائے تو حامہ ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔

حمل کی ابتدائی علامات

بعض اوقات ابتدائی ہفتوں میں حمل کی ابتدائی علامات کو جاننا مشکل ہوتا ہے. یوں تو حمل کی بہت سی علامات ہیں ان میں سے کچھ حاملہ خواتین خود ہی معلوم کر لیتی ہیں اور کچھ علامات لیڈی ڈاکٹرجسمانی امتحان کے بعد معلوم کرتی ہے۔ مندرجہ ذیل میں حمل کی ابتدائی علامات بتائی گئی ہیں جنہیں پڑھ کر آپ یہ تعین کر سکتی ہیں کہ آپ حاملہ ہیں یا نہیں۔ یہ علامتیں ان عورتوں کی ہیں جن کا پہلا حمل ہو.

حمل کی پہلی علامت ماہواری کا بند ہونا ہے.عموما حاملہ عورت کو 28 کے بعد باقائدہ حیض نہیں آتا اور اگر دو ہفتے مزید گزر جائیں تو حمل قرار پا جانے کا شبہ قدرتی ہے. بعض اوقات ماحول یا آب ہوا کی تبدیلی، بیماری، جسمانی یا ذہنی صدمے سے بھی ماہواری بند ہو جاتی ہے. لیکن اگر دوسرا مہینہ بھی صاف گزر جائے تو تو حمل کی علامات ظاہر ہونے یا نہ ہونے سے حمل کی تصدیق یا تروید کی جا جاتی ہے.

حاملہ ہونے کی دوسری بڑی نشانی پستانوں میں تغیر ہے. حاملہ عورت کی چھتیاں بھاری اور سخت ہو جاتی ہیں، ان میں نرمی پیدا ہو جاتی ہے اور نپل بھی نمایا اور موٹی ہو جاتی ہیں. نپل کے گرد کا ہالہ گہرا سیاہ ہو جاتا ہے اور اس کا پھیلاؤ بھی تین انچ تک بڑھ جاتا ہے. اس کے ساتھ ہی چھاتیوں کی نسوں میں خون کی گردش تیز ہو جاتی ہے اور ان میں خون کا دباؤ صاف دکھائی دیتا ہے.

Pregnancy signs and symptoms, حمل کی ابتدائی علامات

حاملہ ہونے کی تیسری بڑی علامت متلی اور قے ہے. حمل ٹھرنے کے تقربیا دو ہفتے بعد حاملہ عورت کو متلی اور قے کی شکایت ہو جاتی ہے، یہ شکایت بلعموم 12 ہفتوں تک جاری رہتی ہے اور دن میں کسی بھی وقت ہو سکتی ہے. بعض ایسی عورتیں بھی ہیں جن کو درون حمل متلی یا قے شکایت بلکل نہیں ہوتی اور حمل کے استقرار کے تعین کیلئے عورت کو متلی اور قے ہونا ضروری نہیں ہے.

حمل ٹھرنے کی چوتھی علامت پیشاب کی کثرت یا زیادتی ہے. حمل کے سبب رحم یعنی بچہ دانی پھیلنے لگتی ہے اور اس کا دباؤ مثانے پر پڑنے لگتا ہے. جسکی وجہ سے ابتدائی ہفتوں میں آپ کو بار بار پیشاب کی حاجت ہونے لگی گی. اس شکایت کا کوئی تدارک نہیں ہو سکتا. ابتدائی 12 ہفتوں کے بعد یہ شکایت خود بخود جاتی رہتی ہے البتہ زچکی سے 2 ہفتے قبل پھر لوٹ آتی ہے.

حمل کی پانچویں علامت رحم سے لعاب دار رطوبت کا اخراج ہے. حمل ٹھرنے کے بعد رحم سے پانی کی طرح کا رقیق خارج ہونے لگتا ہے. اور جن اعضاء کا تعلق بچے کی پیدائش سے ہے ان میں خون کی گردش تیز ہوجاتی ہے جسکی وجہ سے اندام نہامی سے پانی کی طرح کا لعاب دار مادہ خارج ہونے لگتا ہے.

اگر مادے کے اخراج کی مقدار بڑھ جائے تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے. یہ بھی عین ممکن ہے کہ متذکرہ بالا علامات سرے سے غائب ہوں اور استقرارحمل ہو جائے.

پیٹ کا بڑھنا بھی حمل کی علامات میں سے ایک واضع علامت ہے. 3 مہینے بعد حاملہ عورت کا پیٹ بڑھنے لگتا ہے، اور پانچویں مہینے چپھائے نہیں چھپتا. لیکن بعض وقت پیٹ میں پھوڑا ہونے کی وجہ سے بھی پیٹ بڑھ جاتا ہے، اگر حمل کی دوسری علامات ظاہر نہ ہوں اور صرف پیٹ ہی بڑا ہوا یا اس میں بوج محسوس ہو تو فورا ڈاکٹر کو دکھانا چاہیئے.

پیٹ پر دھاریاں (سٹریچ مارکس) پڑنا بھی حمل کی ایک واضع نشانی ہے. حمل ٹھرنے کے 4 سے 5 مہینے بعد پیٹ کے نچلے حصے، پیڑوں اور رانوں پر گلابی زنگ کی دھاریاں پڑ جاتی ہیں. ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کھرچنے سے نشان پڑ گئے ہوں. اصل میں رحم کے بڑھنے سے ان مقامات کی نچلی جلد پھٹ جاتی ہے یہ داغ قریب قریب ہر ماں کے پیٹ پر ہوتے ہیں ان کوعیب نہیں سمجھنا چاہیے.

ڈاکٹری معاینہ

مندرجہ بالا علامات وہ تھیں جنکی مدد سے حاملہ خاتون خود اپنے حمل کی تصدیق کر سکتی ہے. لیکن کیونکہ یہ یقینی نہیں ہیں اس لئے لیڈی ڈاکٹر حاملہ کا معاینہ کر کے حمل کی تصدیق یا تروید کرتی ہے.

Pregnancy signs and symptoms, حمل کی ابتدائی علامات

باقائدہ معاینہ کیلئے سب پہلے لیڈی ڈاکٹر یہ دیکتھی ہے کہ رحم پھیلاؤ ہے یا نہیں. رحم کا معانیہ اس وقت کیا جاتا ہے جب ماہواری بند ہوئے 2 ماہ یا اس سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہو. اس معانیے سے کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوتی، اگر رحم خلاف معمول پھیلا ہوا ہے تو یہ حمل ٹھرنے کا ثبوت ہے.

پیٹ میں تین مہینے تک کے بچے کو کچہ بچہ اور اس کے بعد والے کو جنین کہتے ہیں. اگر حاملہ عورت کے پیٹ میں زندہ بچہ ہو تو 20 یا 25 ہفتے میں اس کے دل کی دھڑکن واضع سنی جا سکتی ہے. لیڈی ڈاکٹر سٹیھتو سکوپ کی مدد سے حنین کے دل کی دھڑکن سسنتی ہے. اگر ڈاکٹر یہ دھڑکن سن لے تو حاملہ ہونے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی.

حمل کی تشکیل میں الٹرا ساونڈ سکین سب سے قابل اعتماد طریقہ ہے. اگر حمل کے ٹھرنے میں شبہ ہو تو 12 ہفتے بعد یا 18 ہفتے کے شروع میں الٹرا ساونڈ کرانا چاہیے. پیٹ میں اگر بچہ ہو گا تو اس کا ڈھانچہ سکرین پر واضع نظر آئے گا، 12 یا 18 ہفتوں سے پہلے الٹرا ساونڈ کرانا ماں اور بچے دونوں کی صحت کیلئے مناسب نہیں ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں