کمر درد

ads

انسان کی روز مرہ زندگی اور آجکل ایک بڑا مسلہ کمر درد بنتا جا رہا ہے، تقریباً ہر 5 میں سے 3 مرد و خواتین کمر درد کے مسلے کا شکار ہیں. اسکے علاوہ تین چوتھائی لوگ اپنی عمر کے کسی نہ کسی حصے میں اس مسلے کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان میں زیادہ تعداد خواتین کی ہوتی ہیں. کمر درد کی سب سے بڑی وجہ دور حاضر کی مشینی زندگی ہے. اسکے علاوہ انسان کی کم تحریکی اور مناسب جسمانی مشقت نہ کرنا کمر درد میں مبتلا ہونے کی بڑی وجہ ہے.

کمر درد ممکن ہے کہ تھوڑی مدت کیلئے ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی وجہ مسلسل اس مسلے کا شکار بن رہی ہو. اگر مرض میں شدت آجائے تو درد اس سے زیادہ عرصے کیلئے رہتی ہے. اور بعض افراد تا حیات کمر درد کے مسلے کا شکار ہو سکتے ہیں.

کمر درد کی اقسام

بعض اوقات کمر میں درد اچانک ہونے لگتا ہے اور حرکت یا جگہ تبدیل کرنے پر دور ہو جاتا ہے، اور درد جس وجہ سے ہو رہا ہے وہ پرانی بھی ہو سکتی ہے. درد کی شدت اور مدت کے لحاظ سے کمر درد کو مندرجہ ذیل اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے.

عام یا شدید درد
عام یا شدید کمر درد کا دورانیہ تقریباً 4 سے 6 ہفتوں پر مشتمل ہوتا ہے، اس قسم کے درد سے کمر میں اچانک اور شدید درد محسوس ہو تا ہے، اس قسم کے درد کی وجوحات چوٹ لگنا، ہڈی کے ٹوٹنا یا فریکچر، آپریشن یا سرجری وغیرہ ہو سکتی ہیں. اس قسم کا کمر درد ادویات، ورزش اور گھریلو نسخنوں سے ختم ہو جاتا ہے.

دائمی اور مستقل درد
دوسری قسم دائمی اور مستقل رہنے والے کمر درد کی ہے. جو چوٹ یا زخم کے ٹھیک ہو جانے کے بعد کئی ہفتوں، مہینوں بلکہ برسوں تک رہتا ہے. اس قسم کے درد میں مرد و خواتین کے جسمانی اعضاء میں کھنچاؤ اور درد رہتا ہے، جسکی وجہ سے آپ آسانی سے حرکت نہیں کرسکتے.

کمر درد کی وجوحات

مرد و خواتین میں درد کی وجوحات مختلف ہو سکتی ہیں لیکن زیادہ تر وجوحات ایک جیسی ہوتی ہیں. مندرجہ ذیل میں مرد و خواتین میں کمر درد کی وجوحات علیحدہ سے بیان کی گئی ہیں.

خواتین میں درد کی وجوحات
جسمانی کمزوری، بار بار حمل ہونا، جھک کے بیٹھنا، جھاڑو یا صفائی کرنا، بھاری وزن اٹھانا، وزن کی کمی، شکم میں درد، اونچی ایڑی والی جوتیاں پہننا، اور خواتین کے خاص امراض وغیرہ کمر درد کی وجوحات ہو سکتی ہیں. انہیں وجوحات کی بنا پر خواتین میں درد زیادہ دیکھنے میں آتا ہے.

مردوں میں کمر درد کی وجوحات
بڑھاپا یا اڈھیڑ عمری، جوڑوں کی تکلیف، موٹاپا، شدید قبص، پیٹ کے بل لیٹنا، بھاری وزن اٹھانا، زیادہ دیر جھک کر کام کرنا وغیرہ کمر درد کی وجوحات ہو سکتی ہیں.

اسکے علاوہ کمر درد کی وجوحات میں کمر کے عضلات کا کمزور ہونا، کمر میں چوٹ کا لگنا، کمر کا آپریشن یا سرجری، صدمہ یا ٹراما، ڈپریشن، ریڑھ کی ہڈی میں سوزش اور دیگر ٹیومرز وغیرہ ہو سکتی ہیں.

کمر درد کی علامات

کمر درد کے مسلے میں کمر کے عضلات کمزور ہو جاتے ہیں اور چلنے پھرنے سے بھی درد ہوتا ہے. کمر کے ساتھ ساتھ ٹانگوں، گردن، ہاتھوں اور دیگر جسمانی اعضاء میں درد شروع ہو جاتا ہے.مریض کو سخت بے چینی ہوتی ہے، مریض آسانی سے جھک، اٹھ اور بیٹھ نہیں سکتا. شدید درد کی صورت میں بخار بھی ہو جاتا ہے، علاوہ ازیں قبض اور بے خوابی جیسے مرض بھی لاحق ہو سکتے ہیں.

کمر درد کا علاج

کمر درد کیلئے بہت سارے مؤثر علاج کیے جاتے ہیں، لیکن درست طریقہ کار یہ ہے کہ مکمل آرام اور مستند ڈاکٹر کی زیر نگرانی علاج کیا جائے. کمر درد کنٹرول کرنے کیلئے چند مفید ٹپس مندرجہ ذیل میں بتائی جا رہی ہیں، جن پر عمل کر کہ مرد و خواتین شدید کمر درد سے کافی حد تک آرام حاصل کر سکتے ہیں.

بیڈ ریسٹ ضرور کی جائے لیکن اتنی بھی لمبے عرصے تک نہ کی جائے کہ کمر کے عضلات غیر معمولی آرام کی وجہ سے کمزور پڑ جائیں. ڈرائیونگ سیٹ اور کرسی وغیرہ پر مناسب اور درست طریقے سے بیٹھا جائے تاکہ کمر کے عضلات میں کوئی کھنچاؤ وغیرہ پیدا نہ ہو. اپنے پیٹ کے بل مت سوئیں کیونکہ اس طرح سونے سے کمر درد لاحق ہونے کا خطرہ زیادہ رہتا ہے.

کھانے میں زیادہ چکنائی والی، روغن اور کٹھی اشیاء کے استعمال سے پرہیز کریں اورخوراک میں وٹامن اور کیلشیم سے بھرپور قدرتی غذاؤں کا استعمال کریں. قبض اور بد ہضمی کی صورت میں پہلے ان امراض کا علاج کیا جائے، تاکہ نظام انہضام بہتر ہو اور کمر درد کے مسلے سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے.

حاملہ خواتین اپنی روز مرہ خوراک پر زیادہ توجہ دیں تاکہ عضلاتی اور اعصابی کمزوری نہ ہونے پائے. حاملہ خواتین مشقت طلب کاموں سے گریز کریں. ڈپریشن کی شکار مریضہ کی پریشانیوں کو ممکنہ حد تک دور کیا جائے تاکہ اجتماعی طور پر اس کی صحت میں بہتری کے ساتھ ساتھ کمر درد کو بھی دور کیا جا سکے.

صبح سویرے مناسب ورزش اور ہلکی پھلکی چہل قدمی ضرور کی جائے تاکہ کمر کے عضلات کی لچک اور تندرستی بحال رکھی جا سکے. بھاری چیزیں اور وزن اٹھانے سے پرہیز کریں کیونکہ اسطرح کمر پر بوجھ پڑنے سے درد بڑھتا ہے، اگر درد ہلکہ ہلکہ ہو تو بچوں کو اٹھانے سے بھی گرہیز کریں.

اگر کمر درد شدید ہو تو مائلڈ پین کلر ادویات مثلاً پونشٹان، بروفن اور بریکسین وغیرہ کا استعمال کریں. ادویات کے استعمال سے پہلے مرض کے اسباب ضرور معلوم کریں جن کی وجہ سے کمر درد ہو رہا ہو اور پھر ان اسباب کا سدباب کریں تاکہ مرض کے علاج میں آسانی ہو اور بہترین نتائج حاصل ہو سکیں.

کمر درد کو معمولی درد نہیں سمجھنا چاہیے اور نہ ہی اس کے علاج میں کوتاہی کرنی چاہیے، کیونکہ زیادہ تاخیر کے نتیجے میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں. اس لیے کمر درد کی شکایت کی صورت میں فوراً ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کریں تاکہ اس مسلے کا ممکنہ علاج کروایا جا سکے.

کمر درد کیلئے ورزشیں

آپ بہت سادہ اور سہل ورزشوں کے ذریعے اپنی کمر کو مضبوط اور کمر درد سے نجات حاصل کر سکتے یا سکتی ہیں. مندرجہ ذیل میں چند آسان گھریلو ورزشوں کے طریقے بتائے گئے ہیں، یہ ورزشیں آپ صبح سوریرے نیند سے بیدار ہونے کے بعد چند منٹ میں مکمل کر سکتے یا سکتی ہیں.

پہلی ورزش
فرش پر لیٹ جائیں، گھٹنوں کو خم کر دیں لیکن اس طرح کہ آپ کے پیروں کے تلوے مکمل طور پے فرش پر ہوں. اب اپنی کمر کو آہستہ سے دبائیں کہ وہ فرش کو چھونے لگے. ایسا کرنے سے پیٹ کے مسلز میں سختی اور کمر کے عضلات میں لچک پیدا ہوتی ہے.

دوسری ورزش
پیٹ کے بل لیٹ جائیں، آپ کا چہرہ فرش کی جانب ہونا چاہئے، اسکے بعد اپنے پیروں کو ایک ساتھ اسطرح دبائیے کہ آپ کے پنجے باہر کو نکلے ہوں. آخر میں اپنے پیٹ کے درمیان والے حصے کو فرش پر دبائیں. اس طرح کرنے سے آپ کے کولہوں اور پٹھوں میں سختی پیدا ہو گی اور کمر درد سے نجات ملے گی.

تیسری ورزش
اپنے ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل فرش پر بلی کی طرح پوزیشن اختیار کر لیں اور ہتھیلیوں کا رخ فرش پرجسم کی طرف ہو اور پاؤں کا باہر کی جانب. اسکے بعد پیٹ کے عضلات میں سختی پیدا کریں اور اپنے پیٹ کو نیچے کی طرف جھکا لیں حتیٰ کہ تھوڑی آپ کے سینے کو چھونے لگے. ایسا کرنے سے گردن اور کمر درد میں آرام ہوتا ہے.

چوتھی ورزش
پیٹ کے بل فرش پر لیٹ جائیں اور آپ کا چہرہ فرش کو چھو رہا ہو. گھٹنے ساتھ ساتھ جڑے ہوں اور اپنے بازوں کو کمر کے اوپر اس طرح رکھیں کہ ہتھیلیاں ریڑھ کی ہڈی پر اوپر کی جانب ہوں اور کہنیاں نچلی پسلیوں کو چھو رہی ہوں. اب اپنی کہنیوں کو اٹھائے بغیر اپنے سر کو ممکنہ حد تک اوپر اٹھائیں. ایسا کرنے سے بھی کمر درد میں کافی حد تک آرام آتا ہے.

جب آپ چاروں ورزشوں کو اچھی طرح پریکٹس کر لیں تو آخر میں اس ورزش کو انجام دیں. کمر کے بل لیٹ جائیں، ٹانگوں اور گھٹنوں کو بل دیں جبکہ پاؤں کو فرش پر ہی رکھیں. اس پوزیشن میں اپنے کندھوں کو اٹھائیں اور آگے کی طرف جھکتے ہوئے گھٹنوں پر اپنے ہاتھ کی ہتھیلیاں لگائیں. ایسا 10 مرتبہ دہرائیں.

کمر درد کیلئے گھریلو ٹوٹکے

مناچب احتیاط، ہلکی پھلکی ورزش کے علاوہ آپ کمر درد سے نجات کے لئے گھریلو ٹوٹکے بھی آزما سکتی یا سکتے ہیں. مندرجہ ذیل میں چند آزمودہ گھریلو نسخے بیان کیے گئے ہیں جو کمر درد سے آرام دلانے میں کافی حد تک کارآمد ہیں.

کمر درد سے نجات کیلئے 5 عدد خشک آلو بخارے، 1 عدد خشک انجیر اور 1 عدد خشک خوبانی کو کوٹ کر پاؤڈر بنا لیں، اور اسے روزانہ دن میں کسی بھی وقت 2 ماہ تک باقائدگی کے ساتھ کھانے سے ہر قسم کا جسمانی اورکمر درد مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے. یہ نسخہ مرد و خواتین کیلئے یکساں مفید ہے.

ادرک کا استعمال ہمارے گھر میں تقریباً روزانہ ہی کیا جاتا ہے. ادرک کا ایک چھوٹا ٹکڑا لیں، اسے کوٹ کر اسکے پیسٹ سے جس جگہ درد ہو وہاں 5 منٹ تک مالش کرنے سے کمر اور باقی جسمانی دردوں میں آفاقہ ہوتا ہے. اسکے علاوہ آپ ادرک کی چائے بھی بنا کر استعمال کر سکتی یا سکتے ہیں.

تلسی کے پتوں کو کمر درد کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے. تلسی کے 8 سے 10 پتے 1 کپ پانی میں شامل کر کے ابالیں یہاں تک کہ پانی آدھا کپ رہ جائے. ٹھنڈا ہونے پر اس میں ایک چٹکی نمک شامل کر کہ درد والی جگہ پر دن میں 2 مرتبہ مالش کریں.

خشخاش اور مسری کا سفوف کمر درد کے لیے بہت مفید ہے. سفوف بنانے کیلئے 100 گرام خشخاش اور 100 گرام مسری پیس لیں. روزانہ 2 چمچ دودھ کے ساتھ استعمال کریں، آپ اس سفوف کو دودھ کے علاوہ خشک بھی استعمال کر سکتی یا سکتے ہیں.

خمیرہ گاؤ زبان عنبری 7 گرام میں معجون فلاسفہ 7 گرام ملا لیں اور آدھا چمچ صبح اور آدھا چمچ رات کو دودھ یا پانی کے ساتھ تقریباً دو ہفتوں تک استعمال کریں. نسخے کے استعمال کے دروان لسی، دہی، کولڈ درنک اور کٹھی اشیاء ہرگز نہ کھائیں.

نوٹ: اگر مناسب علاج اوراحتیاط کے باوجود کمر درد میں افاقہ نہ ہو تو کسی ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں تاکہ مستقبل کی پچییدگیوں سے بچا جا سکے.

اپنا تبصرہ بھیجیں